June 28, 2022

استقامت درکار ہے مداہنت نہیں

✍️ پٹیل عبد الرحمٰن مصباحی، گجرات (انڈیا)

فَلَا تُطِعِ الْمُكَذِّبِیْنَ(۸)وَدُّوْا لَوْ تُدُِْنُ فَی

ترجمہ: تو جھٹلانے والوں کی بات نہ سننا۔ وہ تو اس آرزو میں ہیں کہ کسی طرح تم نرمی کرو تو وہ بھی نرم پڑ جائی. (القلم, 9)

اولاََ مداہنت کی مختصر توجیہ ملاحظہ کریں. مداہنت کیا ہے اس پر کلام کرتے ہوئے مبرد نے کہا :

قالَ المُبَرِّدُ: داهَنَ الرَّجُلُ في دِينِهِ، وداهَنَ في أمْرِهِ إذا خانَ فِيهِ وأظْهَرَ خِلافَ ما يُضْمِرُ، والمَعْنى تَتْرُكُ بَعْضَ ما أنْتَ عَلَيْهِ مِمّا لا يَرْضَوْنَهُ مُصانَعَةً لَهم، فَيَفْعَلُوا مِثْلَ ذَلِكَ ويَتْرُكُوا بَعْضَ ما لا تَرْضى فَتَلِينَ لَهم ويَلِينُونَ لَكَ. (تفسیر کبیر)

Ital لہٰذا آیت کا مفہوم یہ ہوگا کہ پیغمبر بعض وہ کام ترک کر دیں جو مشرکین کو پسند نہیں ان کے شر سے محفوظ رہنے کے لیے، تو مشرکین بھی کچھ ایسے کام چھوڑ دیں گے جو پیغمبر اسلام کو پسند نہیں. اس طرح دونوں طرف سے ایک دوسرے کے لیے نرمی کا مظاہرہ ہو جائے گا.

آی کے پ منظر کا خلاصہ یہ ہے کہ کچھ دانشر قusive مگر ہمارے بتوں کے بارے میں کچھ نرمی سے کام لیں. ہوگا یہ کہ آپ اگر بتوں کے لیے تھوڑی سی نرمی دکھائیں گے تو ہماری طرف کے متشدد جہلاء بھی آپ کی رواداری کے سبب نرم پڑ جائیں گے اور کسی نہ کسی حد تک آپ کے اللہ کو بھی اپنے معبودوں میں جگہ دے دیں گے. وہ چاہتے ہیں کہ تم جن احکامات پر کاربند ہو ان میں سے کچی ہی تم د ب ان چند بات ک چھ د ت ہم ھی تمہارے ساھ روادا via ان کی اِ پیش کش پر “لعلّك باخِع نف علیٰ آثارِھم” کی شان والے رسل ک با ønske تمہاری بے جا رواداری سے یہ ایمان نہ لائیں گے بلکہ اپنے کفر پر مزیں.

یہاں یہ بات بھی یاد رہے کہ یہ سارا واقعہ مکہ کے ابتدائی دور ڒ. ضعف اسلام کا زمانہ ہے اور آگے بڑھنے کے لیے ہر قسم کی معاونت کی شدید حاجت ہے, نہ صرف یہ کہ معاونت کی حاجت ہے بلکہ اہل اسلام کی مظلومیت کا دور دورا ہے اور قوی امکان ہے کہ اصول میں کچھ نرمی کرنے سے دیگر کوئی فائدہ نہ ھی حاصل ہ ت کم از کم کمزر مسلمانں کے ساھ ہ رہے ظالمانہ سلک میں کافرں کی ط… ایسے حوصلہ شکن حالات کے باوجود دین میں کسی قسم کی مداہنت کی اجازت نہیں دی جا رہی, بلکہ دیگر آیات اور بہت سی احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ایسے ماحول میں بھی آخری پیغمبر ﷺ نے اپنے اصحاب کو مسلسل صبر کی تلقین کی اور اسلامی اصولوں پر قائم رہنے کے عوض آئندہ میسر آنے والی کامیابیوں کی بشارت سنائی.

جدید دنیا میں بھی ایسے بہت سارے مراحل اہل اسلام کو پیش آتے رہتے ہیں جب اسلامی شعائر یا معتقدات سے اغماض برتنے یا ان کو پس پشت ڈالنے یا کم از کم ان کو جدیدیت سے موافق شکل میں پیش کرنے پر بہت ساری مراعات اور سہولیات کی نوید سنائی جاتی ہے. عام انسان کو داڑھی ترک کرنے کے عوض؛ نوکری فراہم کرنے سے لے کر اعلیٰ درجات پر فائز قائدین کو دین ضةئی گ لکژری لائف اور پیسوں کی ریل پیل کے آفر تک؛ تمام درجات کو قرآنی تناظر میں “ودوا لو تدھن فیدھنون” کا پر پیچ تبادل. ای تادلں کی ج ابائی ایام میں ضعف اسلاævne

لہٰذا ج شخص ین میں مداہنت ک مسلمانں کے زال کا علاج سمجھا ہے ہ ھ ھ یں ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا. آج مسلمانوں کے درمیان ہر نو پید نظریہ کے بعض پہلوؤں کو اسلام سے ہم آہنگ دکھا کر اس کے سامنے سجدہ ریزی کی دعوت دینے والے مداہنت پسند دانشوروں کو یہ سمجھانا بہت دشوار ہے کہ سیکولر اصولوں پر مبنی ایمان سوز بھائی چارے کے طریقے اسلام میں روز اول ہی سے ممنوع قرار دیے گئے ہیں. اس مشکل کی وجہ یہ ہے کہ وہ عقل کا کلمہ پڑھ چکے ہیں, جدید نظریات سے مرعوب ہو گئے ہیں اور لگاتار اسلامی اصولوں کے خوش گوار نغموں سے منہ موڑ کر مداہنت کا پھٹا ہوا ڈھول پیٹنے میں مصروف ہیں.

ایک مسلمان کے لیے جدید دنیا میں اپنی دینی شناخت بچائے رکھنے کے لیے بہت ضروری ہے کہ وہ مداہنت پر مبنی لچر پچر توجیہات اور کَلر فل اسلام کے نعروں سے بچے اور اچھی طرح جان لے کہ کامیابی کا قرآنی اصول ایک ہی ہے، وہ یہ کہ ماحول سے بے نیاز ہو کر دین پر استقامت دکھاؤ گے تو حال کیسا بھمبی دیسا بھمب تم ہی سب سے بلند ہو اگر تم مومن ہو. اللہ کافروں کو مسلمانوں پر راہ نہیں دیتا. جنہوں نے کہا کہ اللہ ہمارا رب ہے اور اس پر ڈٹ گئے وہ بے خوف اور بے غ گے غ

25.09.1443

27.04.2022

Ingen billedbeskrivelse tilgængelig.

Leave a Reply

Your email address will not be published.