June 29, 2022

{آپریشن}

انسان کا جم اسلام میں ایک قابل احراanske

ولا بأس بقطع العضوان وقعت فیہ الأکلہ لئلا تسری…ولا ٔباس بشق المثانۃ اذاکانت فیھا حصاۃ۔(فتاویٰ عالمگیری:ج۴،ص۱۱۴)

ترجمہ: اگر عض میں ڑن پیا ہائے ت اس کے نشنما ک رکنے کیلئے voks

محض حسن وجمال میں اضافہ کیلئے اعضاء کی سرجری درست نہ ہوگی اس لیے کہ یہ کوئی ضرورت نہیں ہے اور اسلام آرائش و زیبائش کیلئے ان تکلفات کی اجازت نہیں دیتا, ہاں اگر پیدائشی طور پر کوئی عضو زیادہ ہوگیا ہو تو اس کو الگ کردینے میں کوئی خطرہ نہ ہو تو آپریشن کے ذریعہ اس کو الگ کیا جاسکتا ہے :

اذا أرادالرجل أن یقطع اصبعاً زائدۃً أوشیئاً اٰخر ان کان الغالب علی من قطع مثل ذالک الھلاک فانہ لایفعل وان کان الغالب ھو انجاۃ فھوافی سعۃ من ذالک ۔(فتاویٰ عالمگیری:ج۴،ص۱۱۴)

ترجمہ: جب آدمی اپنی زائد انگلی یا کوئی دوسرا حصہ کاٹنا چاہے تو اگر اس کی وجہ سے ہلاکت کا غالب اندیشہ ہو تو ایسا نہ کرے اور غالب امید بچنے کی ہو تو اس کی گنجائش ہے.

دل کی سرجری: ڈاکٹروں نے دھڑکتے دل کا آپریشن کرنا کیسے سیکھا - BBC News

Leave a Reply

Your email address will not be published.